17 اگست 2010 - 19:30

رپورٹ کے مطابق سعودی ـ عراقی سرحد سے نہایت بڑی مقدار میں گولہ بارود ـ جو عراق میں دہشت گردی کی غرض سے منتقل ہورہا تھا ـ برآمد کیا گیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی سرحد سے نہایت خطرناک گولہ بارود برآمد ہونے کے بعد ـ جو ایک خفیہ تخریبی منصوبے کے تحت عراق میں دہشت گرد کاروائیوں کے لئے بھیجا جارہا تھا ـ وزیراعظم نوری المالکی نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں سیکورٹی حکام، وزیر دفاع اور وزیر معاشیات نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں اس دراندازی اور مذکورہ گولہ بارود کے استعمال کے ممکنہ نتائج اور اس قضیئے کے سلامتی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق برآمد ہونے والا گولہ بارود اردن کے قریب سعودی عرب کی سرحد سے عراق کے "طریبیل" نامی علاقے کی طرف منتقل کیا جارہا تھا لیکن عراق میں داخلے سے پہلے ہی اس کا راستہ روکا گیا اور گولہ بارود اور مختلف قسم کے سعودی ساختہ ہتھیار برآمد اور ضبط کئے گئے۔اس کھیپ میں شامل دھماکہ خیز مواد نہایت خطرناک تھا اور اس سے وسیع تباہی پہیل سکتی تھی۔ عراقی حکام نے اس کاروائی کے دوران نہایت اہم دہشت گرد بھی حراست میں لئے ہیں جن کی اہمیت کی بنا پر ہی عراقی حکومت کو ہنگامی اجلاس بلانا پڑا تاہم ان افراد کے نام اور کوائف کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ ........../110